-
ہر اک موسم میں وہ اندازِ بدلتا ہوا نظر آئے خزاں ہو یا برسات وہ مچلتا ہوا نظر آئے
-
پتھر کا جو بنتا تھا وہ شخص اب ہَم کو ہلکی سے اک چوٹ پہ بگھلتا ہوا نظر آئے
-
سمیٹ لیتا ہے خود کو وہ انجان سی راہ میں گرنے سے پہلے ہی وہ سنمھلتا ہوا نظر آئے
-
اور صبح کی لالی میں وہ چمکتا ہوا آفتاب پِھر رات كے پہلو میں وہ سلگتا ہوا نظر آئے
-
ہر لمحہ خوشی کا ہے یوں مہربان اس پر پر تنہیایوں كے شور میں وہ جلتا ہوا نظر آئے
ارسال کنندہ Shabeeb Hashmi


