رنگ نکھرے تو سبھی گل بھی تھے خوش پوش رہے

ghazal-urdu

رنگ نکھرے تو سبھی گل بھی تھے خوش پوش رہے
مہکی فضاؤں میں یوں ہواؤں كے ہَم دوش رہے

لمحے تھے قید تیرے لہجے کی کھنک کو سن کر
ہَم بھی تھے مست اور سراپا ہمہ تں گوش رہے

کچھ حالت بھی موافاق تھے کے جذبے تھے جوان
ہَم بھی اظہر كے ان لمحوں میں تھے پر جوش رہے

الفاظ رک جائیں جو اگر آنكھوں کو سخن ور دیکھیں
سوچ پر پہرے لگے اور ہَم بھی تھے خاموش رہے

میرے جذبوں کی صداقت پہ نہ کوئی حرف آئے
دِل كے جور راز تھے وہ سینے میں ہی روپوش رہے

تبصرہ کریں