میرا تو رنجشیں ساری مٹانے کا ارادہ تھا

mohsin naqvi ghazal

میرا تو رنجشیں ساری مٹانے کا ارادہ تھا
گلے اس شخص کو پِھر سے لگانے کا ارادہ تھا

چلو اچھا ہوا اس نے مجھے ساحل سے ہی لوٹا دیا
ورنہ میرا تو ساری کشتیاں جلانے کا ارادہ تھا

مچا دیتی ہے ہلچل خیالوں میں تیری یادیں
ورنہ تجھے اِس دِل سے بھلانے کا ارادہ تھا

بڑی منت سماجت سے وہ مانا ہے
جسے دو چار لفظوں میں منانے کا ارادہ تھا

اگر ویران شاخوں پہ پرندوں كے گھر نہ ہوتے محسن
تو اب سوکھے درختوں کو جیلانے کا ارادہ تھا

تبصرہ کریں