ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اِس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر تم کو اِس سے کیا
بوجتی رہے ہواؤں سے دَر مگر تم کو اِس سے کیا

تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو
کٹ جائیں میری سوچ كے پر ، تم کو اِس سے کیا

تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر ، تم کو اِس سے کیا

تبصرہ کریں