دم ادا میں تیرے جو اسیر ہوگئے

دم ادا میں تیرے جو اسیر ہوگئے
عاشقی ہوئی یہاں تک كے میر ہوگئے
حسن وجمال کی تیرے کرکے مصوری
آخر کو ہم بھی اک تصویر ہوگئے
جدوجہد مسلسل ہے ، منزل کی آرزو
زندگی كے اِس سفر میں راہگیر ہوگئے

تبصرہ کریں