دسمبر کی بھیگی شاموں میں

decemberkawish

دسمبر کی بھیگی شاموں میں
کالی لمبی راتوں میں
تیری یاد ہمراہ ہو تو
شامیں یوں ہی گزر جائیں
راتیں مختصر ہو جائیں
ہم تیری یادوں میں کھو جائیں
تو یہ دسمبر تو کیا
کئی دسمبر گزر جائیں

تبصرہ کریں