جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے

habib-jalib-urdu-poetry

جب کوئی کلی صحن گلستاں میں کھلی ہے
شبنم مری آنکھوں میں وہیں تیر گئی ہے

جس کی سر افلاک بڑی دھوم مچی ہے
آشفتہ سری ہے مری آشفتہ سری ہے


اپنی تو اجالوں کو ترستی ہیں نگاہیں
سورج کہاں نکلا ہے کہاں صبح ہوئی ہے

بچھڑی ہوئی راہوں سے جو گزرے ہیں کبھی ہم
ہر گام پہ کھوئی ہوئی اک یاد ملی ہے

اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے

ہنسنے پہ نہ مجبور کرو لوگ ہنسیں گے
حالات کی تفسیر تو چہرے پہ لکھی ہے

مل جائیں کہیں وہ بھی تو ان کو بھی سنائیں
جالبؔ یہ غزل جن کے لیے ہم نے کہی ہے

تبصرہ کریں