اب کے یوں دِل کو سزا دی ہم نے

ehsan-danish-poetry

اب کے یوں دِل کو سزا دی ہم نے
اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے

ایک ایک پھول بہت یاد آیا
شاخِ گل جب جلا دی ہم نے

آج پِھر یاد بہت آئے وہ
آج پِھر اس کو دعا دی ہم نے

کوئی تو بات اس میں بھی ہے احسان
ہر خوشی جس پر لٹا دی ہم نے

تبصرہ کریں