گلے شکوے کہاں تک ہوں گے ، آدھی رات تو گزری

daagh dehlvi poetry

گلے شکوے کہاں تک ہوں گے ، آدھی رات تو گزری
پریشان تم بھی ہوتے ہو ، پریشان ہَم بھی ہوتے ہیں
کسی کا وعدہ دیدار تو اے داغ برحق ہے
مگر یہ دیکھیے دِل شاد اس دن ہم بھی ہوتے ہیں

تبصرہ کریں