لو اپنا جہاں دنیا والو ہم ایسے جہاں کو چھوڑ چلے

sahir_ludhianvi_poetry

لو اپنا جہاں دنیا والو ہم ایسے جہاں کو چھوڑ چلے
جو رشتے ناطے جوڑے تھے وہ رشتے ناطے توڑ چلے

کچھ سکھ کے سپنے دیکھ چلے کچھ دکھ کے سپنے جھیل چلے
تقدیر کی اندھی گردش نے جو کھیل کھلائے کھیل چلے

ہر چیز تمہاری لوٹا دی ہم لے نہیں کچھ ساتھ چلے
یہ راہ اکیلی کٹنی ہے یہاں ساتھ نہ کوئی یار چلے

اُس پار نہ جانے کیا پائیں
اِس پار تو سب کچھ ہار چلے

تبصرہ کریں