نہ پوچھو کس خرابے میں پڑے ہیں

nasir-shayari-love

نہ پوچھو کس خرابے میں پڑے ہیں
تہہ ابر رواں پیاسے کھڑے ہیں
ذرا گھر سے نکل کر دیکھ ناصر
چمن میں کس قدر پتے جھڑے ہیں

تبصرہ کریں