حسن کی توپ کا گولہ مارا ترا ککھ نہ رہے​

khalid-masood-funny-poetry

حسن کی توپ کا گولہ مارا ترا ککھ نہ رہے​
تجہ پہ گر جائے قطبی تارا، تیرا ککھ نہ رہے

بنکنگ کونسل والے تیری ہر شے قرقی کردیں​
چڑھ جائے تجھ پر قرضہ بھارا تیرا ککھ نہ رہے

سردی اندر نہر کے بنے ساری رات کھلوتے​
تو نہ آئی ، لایا لارا تیرا ککھ نہ رہے

دل کی چوری کے الزام پولیس کا چھاپہ پڑ جائے​
پھڑیا جائے ٹبر سارا ، تیرا ککھ نہ رہے

ساری غزل سنا کر بھی نہیں ساڑا دل کا مکیا​
ساڈا ہے بس اکو ای نعرہ تیرا ککھ نہ رہے​

تبصرہ کریں