تم بھی کیا یاد کرو گے کوئی دوست ہوا کرتا تھا

dosti-shayari

تم بھی کیا یاد کرو گے کوئی دوست ہوا کرتا تھا
اتنا چاہنے والا ہمیں کوئی دوست ہوا کرتا تھا

کتنے حسین دن تھے کتنی حسین راتیں تھیں
مجھے ہنسانے والا کوئی دوست ہوا کرتا تھا

ہر پل ساتھ دینا میرا ہر غم کو بانٹنا
ہر دکھ سمجھنے والا کوئی دوست ہوا کرتا تھا

جب روٹھو گی تو کوئی نہ منائے گا تو سوچو گی
مجھے منانے والا کوئی دوست ہوا کرتا تھا

وہ یاد تو کیا کرے گی اکثر عالم تنہائی میں طاہر
مجھے تنگ کرنے والا کوئی دوست ہوا کرتا تھا

تبصرہ کریں