کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلہ

کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلہ
اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلہ
ہے شوق سفر ایسا اک عرصہ سے یارو
منزل بھی نہیں پائی رستہ بھی نہیں بدلہ

تبصرہ کریں