موت پر بھی ہے یقین ، ان پر بھی اعتبار ہے

موت پر بھی ہے یقین ، ان پر بھی اعتبار ہے
دیکھتے ہے پہلے کون آتا ہے ، دونوں کا انتظار ہے

تبصرہ کریں