تجھے بھول کر بھی نہ بھلا سکوں ، تجھے چاہ کر بھی نا پا سکوں

تجھے بھول کر بھی نہ بھلا سکوں ، تجھے چاہ کر بھی نا پا سکوں
میری حسرتوں کو شمار کر میری چاہتوں کا صلہ نہ دے

تبصرہ کریں