میری قوربتیں بھی سراب ہیں یہ بھلا ہُوا جو ملی نہیں

میری قربتیں بھی سراب ہیں یہ بھلا ہُوا جو ملی نہیں
تیری دوریاں بھی عذاب ہیں میرے دشتِ جاں سے ٹلیں نہیں

تبصرہ کریں