شعر Read in Roman Urdu & English میری قربتیں بھی سراب ہیں یہ بھلا ہُوا جو ملی نہیں تیری دوریاں بھی عذاب ہیں میرے دشتِ جاں سے ٹلیں نہیں تصحیح بتائیں → پچھلاوہ زندگی ہو كے دنیا فراز کیا کیجئے اگلا ←میں کسی کو کیا الزام دوں اپنی موت کا حاصل مزید بےوفا شاعریسب دیکھیں وفا تجھ سے اے بے وفا چاہتا ہوںپورا شعر پڑھیںحسرت موہانی سر جھکاؤ گے تو پتھر دیوتا ہو جائے گاپورا شعر پڑھیںبشیر بدر وفا جس سے کی بے وفا ہو گیاپورا شعر پڑھیںحفیظ جالندھری