شعر Read in Roman Urdu & English جب چلے تو تنہا تھے سفر میں محسن پِھر تم ملے غم ملے تنہائی ملی قافلہ سا بن گیا تصحیح بتائیں → پچھلاانکار کی سی لذت ، اقرار میں کہاں ہے اگلا ←تیری باتوں میں ذکر اس کا میری باتوں میں ذکر تیرا محسن نقوی کا مزید کلامتمام کلام ٹھٹھرتی ہوئی شب سیاح اور وہ بھی طویل ترپورا شعر پڑھیں کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھےپورا شعر پڑھیں ہجوم شہر سے ہٹ کر، حدود شہر کے بعدپوری غزل پڑھیں