خود کو سبز ہی رکھا آنسوؤں کی بارش میں

Ansoo-poetry

خود کو سبز ہی رکھا آنسوؤں کی بارش میں
ورنہ ہجر کا موسم کس کو راس آتا ہے
تو ہواؤں کا موسم تجھ کو کیا خبر جاناں
گردِ بعد گمانی سے دل بھی ٹوٹ جاتا ہے

تبصرہ کریں