ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے

nasir-kazmi-poetry

ناصر کیا کہتا پھرتا ہے کچھ نہ سنو تو بہتر ہے
دیوانہ ہے دیوانے كے منہ نہ لگو تو بہتر ہے
کپڑے بدل کر ، بال بنا کر ، کہاں چلے ہو کس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصر گھر ہی رہو تو بہتر ہے

تبصرہ کریں