وہ جذبوں کی تجارت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا

وہ جذبوں کی تجارت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
اسے ہنسنے کی عادت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا
مجھے وہ دیکھ کر اکثر ، نگاہیں پھیر لیتا تھا
یہ دَر پردہ حقارت تھی ، یہ دِل کچھ اور سمجھا تھا

تبصرہ کریں