جڑتے ہوئے دیکھا نہیں ٹوٹے ہوئے دِل کو
جڑتے ہوئے دیکھا نہیں ٹوٹے ہوئے دِل کو
گر جائیں جو آنسو تو اٹھائے نہیں جاتے
جڑتے ہوئے دیکھا نہیں ٹوٹے ہوئے دِل کو
گر جائیں جو آنسو تو اٹھائے نہیں جاتے
تیز بارش میں کبھی سرد ہواؤں میں رہا
اک تیرا ذکر تھا جو میری صداؤں میں رہا
کتنے لوگوں سے میرے گہرے مراسم ہیں مگر
تیرا چہرہ ہی فقط میری دعاؤں میں رہا
یہ فیضان نظر تھا یا كہ مکتب کی كرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل ( علیہ السلام ) کو آداب فرزندی
چلو یہ زندگی اب ہَم تمھارے نام کرتے ہیں
سنا ہے بے وفا کی بے وفا سے خوب بنتی ہے
صرف احساس ندامت اک سجدہ اور چشم تر
اے خدا کتنا آسان ہے منانا تجھ کو
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہیں کا جہاں اور
الفاظ و معانی میں تفاوت نہیں لیکن
ملا کی اذاں اور ، مجاہد کی اذاں اور
وہ جسے بارش پسند نہ تھی
نہ جانے کیوں آج دیر تک تنہا
دسمبر کی بارش میں بھیگتا رہا