یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہہ چاہت ہے فراز
یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے
یہ قناعت ہے اطاعت ہے کہ چاہت ہے فراز
ہم تو راضی ہیں وہ جس حال میں جیسا رکھے
اے عشق بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے
تو دِل میں تو آتا ہے مگر سمجھ میں نہیں آتا
بہت ناز تھا مجھے اپنے چاہنے والوں پر
میں عزیز تھا سب کو مگر ضرورتوں كے لیے
اب یہ سوچا ہے اپنی ذات میں رہیں گے محسن
بہت دیکھ لیا لوگوں سے شناسائی کر كے
رات دہلیز پر بیٹھی رہیں آنکھیں میری
تو نہ آیا تو کوئی خواب ہی بھیجا ہوتا
احساس محبت کی مٹھاس سے مجھے آگاہ نہ کر
یہ وہ زہر ہے جو میں پہلے بھی پی چکا ہوں