30 اشعار · 19 شعرا
کب ٹھہرے گا درد اے دِل ، کب رات بسر ہو گی سنتے تھے وہ آئیں گے ، سنتے تھے سحر ہو گی
تو ہے سورج تجھے معلوم کہاں رات کا دکھ تو کسی روز مرے گھر میں اتر شام کے بعد
ہجر کا تارا ڈوب چلا ہے ڈھلنے لگی ہے رات وصی قطرہ قطرہ برس رہی ہے اشکوں کی بارات وصیتیرے بعد یہ دنیا والے مجھ کو پاگل کر دیں گے، خوشبو کے دیس میں مجھ کو لے چل اپنے ساتھ وصی
شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔ رات کاٹی خدا خدا کر کے
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
آج کی رات بھی ممکن ہے نہ سو سکوں محسن یاد پِھر آئی ہے نیندوں کو اڑانے والی
رات یوں دل میں تری کھوئی ہوئی یاد آئی جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائےجیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آ جائے
ساری رات کی جاگی آنکھیں کالج میں کیا پڑھتی ہوں گی یونہی کھوئے دِل ہی دِل میں جانے کیا کیا کرتی ہوں گی
میری پلکوں کا اب نیند سے کوئی واسطہ نہیں فراز میرا کون ہے اِس دُنیا میں ، اسی سوچ میں رات گزر جاتی ہے
اِس قدر پیار سے اے جان جہاں رکھا ہے دِل كے رخصار پہ اِس وقت تیری یاد نے ہاتھ یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابحی صبح فراق ڈھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وصل کی رات
30 میں سے 30 دکھائے جا رہے ہیں