24 اشعار · 12 شعرا
ہمیں کیا پتہ تھا كے یہ زندگی اتنی انمول ہے کفن کھول کر دیکھا تو نفرت کرنے والے بھی رو پڑے
موت پر بھی ہے یقین ، ان پر بھی اعتبار ہے دیکھتے ہے پہلے کون آتا ہے ، دونوں کا انتظار ہے
میں کسی کو کیا الزام دوں اپنی موت کا حاصل یہاں تو ستانے والے بھی اپنے تھے دفنانے والے بھی اپنے
زندگی سے ہَم کچھ اُدھار نہیں لیتے فراز کفن بھی لیتے ہیں تو زندگی دے کر
24 میں سے 24 دکھائے جا رہے ہیں