-
آب خنک میں ڈوب گئے شمس و قمر میرے اشک كے مقابل نہیں ، تیری آنکھیں
-
جھیل نما کیا ، سمندر نما ھوں گی میرے دِل سے نہیں گہری ، تیری آنکھیں
-
خوبصورتی نظارے میں نہیں ، نظر میں ہوتی ہے میری آنکھوں کو لگتی ہیں خوبصورت ، تیری آنکھیں
-
لبوں سے کہہ رہی ہو نہ ملا کرو اور کچھ اور کہہ رہی ہیں ، تیری آنکھیں
-
ساگر و پیمانے سے ،واعظ نے دوستی کرلی بن گئے رند صوفی ، جب سے دیکھیں ، تیری آنکھیں
-
یونہی بدنام ہیں میری گستاخ نگاہیں صبح سے شام تک کتنوں کو تکتی ہیں ، تیری آنکھیں
-
او طوفانوں سے لڑنے والے سکندر کیوں ساحل پہ ڈوب گئی ، تیری آنکھیں
ارسال کنندہ Shehzad Sadaruddin Saٰahil


