-
قرب کے نہ وفا کے ہوتے ہیں جھگڑے سارے انا کے ہوتے ہیں
-
بات نیت کی صرف ہے ورنہ وقت سارے دعا کے ہوتے ہیں
-
بھول جاتے ہیں مت برا کہنا لوگ پتلے خطا کے ہوتے ہیں
-
وہ بظاہر جو کچھ نہیں لگتے ان سے رشتے بلا کے ہوتے ہیں
-
وہ ہمارا ہے اس طرح شاید جیسے بندے خدا کے ہوتے ہیں
-
بخش دینا بھی ٹھیک ہے لیکن کچھ سلیقے عطا کے ہوتے ہیں
-
کچھ کو دنیا بکھیر دیتی ہے کچھ پریشاں سدا کے ہوتے ہیں
-
وہ جو ہستی میں ڈوب جاتے ہیں ان کے چرچے بلا کے ہوتے ہیں
-
اس کی فطرت ہی ایسی ہے اخترؔ جیسے تیور ہوا کے ہوتے ہیں
شاعر اختر ملک


