-
میرے پیکر میں تیری ذات کی تنصیب لازم ہے بہت بکھرا ہُوا ہوں میں، اور اب ترتیب لازم ہے
-
عجب وادی ہے وحشت کی، اَٹی ہے دُھول نفرت کی گھر کو گھر بنانے کو، نئی ترکیب لازم ہے
-
مدھر سے راگنی گائیں، چلو کہ جام چھلکائیں میرے گھر میں ہو آئے تم، کوئی تقریب لازم ہے
-
جہاں پر چار ذہنوں میں، بھرا شر ہو، کدورت ہو تو ہو لاحق قبیلے کو، کوئی تخریب لازم ہے
-
میری برہم مزاجی کا، نہیں مطلب میں ایسا ہوں وہاں میں جُھک کے مِلتا ہوں، جہاں تہذیب لازم ہے
-
کرو تقسیم تم حاوی، سدا خیر و محبت ہی کہ اب اِس دَورِ نفرت میں، یہی ترغیب لازم ہے
شاعر طارق اقبال حاوی
ارسال کنندہ Tariq Iqbal Haavi


