شعر Read in Roman Urdu & English دیوانوں کو پِھر سے ہے امید وفا کی دیوانوں نے پِھر ریت پر تحریر لکھی ہے تصحیح بتائیں → پچھلاچند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں اگلا ←آج تک ہے دل کو اُس کے لوٹ آنے کی ۱مید مزید امید شاعریسب دیکھیں کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگپورا شعر پڑھیںمرزا غالب وابستہ ہو گئیں تھی کچھ امیدیں آپ سےپورا شعر پڑھیں کم سے کم موت سے ایسی مجھے امید نہیںپورا شعر پڑھیںفراق گورکھپوری