شعر Read in Roman Urdu & English نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی امتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی تصحیح بتائیں → پچھلاجی ڈھونڈتا ہے پِھر وہی فرصت کے رات دن اگلا ←بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل مرزا غالب کا مزید کلامتمام کلام ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےپوری غزل پڑھیں کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگپورا شعر پڑھیں آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےپورا شعر پڑھیں