شعر Read in Roman Urdu & English بلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گل کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا تصحیح بتائیں → پچھلانہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلی نہ سہی اگلا ←جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے مرزا غالب کا مزید کلامتمام کلام ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےپوری غزل پڑھیں کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگپورا شعر پڑھیں آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسےپورا شعر پڑھیں