شعر Read in Roman Urdu & English آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے تصحیح بتائیں → پچھلاپکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حق اگلا ←کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگ مرزا غالب کا مزید کلامتمام کلام ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےپوری غزل پڑھیں کہتے ہیں جیتے ہیں امید پہ لوگپورا شعر پڑھیں پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر نا حقپورا شعر پڑھیں