شعر Read in Roman Urdu & English وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے تصحیح بتائیں → پچھلانہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا اگلا ←آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد ناصر کاظمی کا مزید کلامتمام کلام چھپ جاتی ہیں آئینہ دکھا کر تری یادیںپورا کلام پڑھیں اپنی دھن میں رہتا ہوںپورا شعر پڑھیں یاد آئی وہ پہلی بارشپورا شعر پڑھیں