شعر Read in Roman Urdu & English میں بلاوجہ ہی رُوٹھاتھا موسموں سے حالانکہ کہ جو گُلاب لگائے تھے وہ بے موسمی تھے ارسال کنندہ Khawaja Usman bhl تصحیح بتائیں → پچھلاوہ پاگل سی لڑکی اور آوارہ راستوں کی جنبش اگلا ←خدا کرے وہ دن بھی میسر ہو مزید اداس شاعریسب دیکھیں کبھی وقت ملے تو آجاؤپوری نظم پڑھیں کبھی جو زندگی کا گوشوارہ دیکھتا ہوں میںپورا شعر پڑھیں نجانے مُجھ سے کیا پُوچھا گیا تھاپوری غزل پڑھیںرشید حسرت