-
لگی ڈھلنے ہے پھر سے شام ساقی بنا کر دے ذرا اِک جام ساقی
-
پِلا وہ جام جو مدہوش کر دے مِلے دل کو بھی کچھ آرام ساقی
-
چلا آیا ہوں تیرے پاس جو میں نہیں مرنے سوا کچھ کام ساقی
-
نہ اُس کا اور نہ اپنا بنا میں نہیں مجھ سا کوئی ناکام ساقی
-
یونہی گِر کے سنبھلنا سیکھنا ہے سہارا دے مجھے نہ تھام ساقی
-
دَورِ عُسرت میں مجھ سے ہے گریزاں اچھے وقتوں کا اِک ہم جام ساقی
-
ہے قاصر آج جو پہچاننے سے ترکِ تعلق کے ہیں اقدام ساقی
-
بنا وہ مے جو ماضی کو بھُلا دے میں دونگا جو بھی ہونگے دام ساقی
شاعر طارق اقبال حاوی
ارسال کنندہ Tariq Iqbal Haavi


