-
کچھ آدمی ہی یار بنانے کے لیے ہوتے ہیں باقی سارے علاقہ بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں
-
ہم ایسے لوگ کیسے رہہ سکتے ہیں دل میں تیرے ہم ایسے دشت میں ہی ٹھکانے کے لیے ہوتے ہیں
-
جاناں گھروں کو آگ نہیں ہیں لگایا کرتے دل اور جان سے یہ بسانے کے لیے ہوتے ہیں
-
حالاتِ گردشِ دوراں سب کو نہیں بتاتے سب آدمی کاں دل کی سنانے کے لیے ہوتے ہیں
-
ہر کار میں تو کام نہیں آتی سخت محنت کچھ کام قسمتیں آزمانے کے لیے ہوتے ہیں
-
اس دشت کے عشاق نہیں بنتے مجنوں طاہر یہ بس سخن ہی سننے سنانے کے لیے ہوتے ہیں
-
️پھولوں کو کون رکھتا ہے سر پہ سجا کے طاہر یہ بیچارے پیروں تلے آنے کے لیے ہوتے ہیں طاہرمختارطاہر
ارسال کنندہ Tahir Mukhtar Tahir


