شعر Read in Roman Urdu & English عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے تصحیح بتائیں → پچھلااک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود اگلا ←فقط اِس شوق میں پوچھی ہے ہزاروں باتیں احمد ندیم قاسمی کا مزید کلامتمام کلام ایک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجودپورا شعر پڑھیں خموش راتوں میں جو دھڑکنیں بکھیری تھیںپورا قطعہ پڑھیں اک عمر سے فریب سفر کھا رہے ہیں ہمپورا شعر پڑھیں