شعر Read in Roman Urdu & English آنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں یا عشق کی پکڑ کر گردن مروڑ ڈالوں تصحیح بتائیں → پچھلاعید اب کے بھی گئی یوں ہی کسی نے نہ کہا اگلا ←حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے غلام ہمدانی مصحفی کا مزید کلامتمام کلام اوروں کی طرف تو دیکھتا ہےپورا شعر پڑھیں لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیںپورا شعر پڑھیں باتوں میں لگائے ہی مجھے رکھتا ہے ظالمپورا شعر پڑھیں