شعر Read in Roman Urdu & English حسرت پہ اس مسافر بے کس کی روئیے جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے تصحیح بتائیں → پچھلاآنکھوں کو پھوڑ ڈالوں یا دل کو توڑ ڈالوں اگلا ←اک دن تو لپٹ جائے تصور ہی سے تیرے غلام ہمدانی مصحفی کا مزید کلامتمام کلام اوروں کی طرف تو دیکھتا ہےپورا شعر پڑھیں لاکھ ہم شعر کہیں لاکھ عبارت لکھیںپورا شعر پڑھیں باتوں میں لگائے ہی مجھے رکھتا ہے ظالمپورا شعر پڑھیں