شعر Read in Roman Urdu & English کون کہتا ہے كے موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتَر جاؤں گا تصحیح بتائیں → پچھلاچارگر ، آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا اگلا ←اک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجود احمد ندیم قاسمی کا مزید کلامتمام کلام ایک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجودپورا شعر پڑھیں خموش راتوں میں جو دھڑکنیں بکھیری تھیںپورا قطعہ پڑھیں اک عمر سے فریب سفر کھا رہے ہیں ہمپورا شعر پڑھیں