شعر Read in Roman Urdu & English چارہ گر ، آج ستاروں کی قسم کھا کے بتا کس نے انساں کو تبسم کے لیے ترسایا ارسال کنندہ AmyRao تصحیح بتائیں → پچھلاندیم میں کبھی اظہار مدعا نہ کروں گا اگلا ←کون کہتا ہے كے موت آئی تو مر جاؤں گا احمد ندیم قاسمی کا مزید کلامتمام کلام ایک حقیقت سہی فردوس میں حوروں کا وجودپورا شعر پڑھیں خموش راتوں میں جو دھڑکنیں بکھیری تھیںپورا قطعہ پڑھیں اک عمر سے فریب سفر کھا رہے ہیں ہمپورا شعر پڑھیں