شعر Read in Roman Urdu & English غرض کہ کاٹ دیے زندگی کے دن اے دوست وہ تیری یاد میں ہوں یا تجھے بھلانے میں تصحیح بتائیں → پچھلاکوئی سمجھے تو ایک بات کہوں اگلا ←ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں فراق گورکھپوری کا مزید کلامتمام کلام اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںپورا شعر پڑھیں رات بھی نیند بھی کہانی بھیپورا شعر پڑھیں تری نگاہ سہارا نہ دے تو بات ہے اورپورا شعر پڑھیں