شعر Read in Roman Urdu & English رہتے تھے کبھی جن کے دل میں ہم جان سے بھی پیاروں کی طرح بیٹھے ہیں انہیں کے کوچے میں ہم آج گنہ گاروں کی طرح تصحیح بتائیں → پچھلامیں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر اگلا ←شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی مجروح سلطان پوری کا مزید کلامتمام کلام بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیےپورا شعر پڑھیں ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئےپورا شعر پڑھیں شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئیپورا شعر پڑھیں