شعر Read in Roman Urdu & English اک لہر ہے کہ مجھ میں اچھلنے کو ہے ظفرؔ اک لفظ ہے کہ مجھ سے ادا ہونے والا ہے تصحیح بتائیں → پچھلاجب نظارے تھے تو آنکھوں کو نہیں تھی پروا اگلا ←عشق اداسی کے پیغام تو لاتا رہتا ہے دن رات ظفر اقبال کا مزید کلامتمام کلام ابھی میری اپنی سمجھ میں بھی نہیں آ رہیپورا شعر پڑھیں پوری آواز سے اک روز پکاروں تجھ کوپورا شعر پڑھیں میں زیادہ ہوں بہت اس کے لیے اب تک بھیپورا شعر پڑھیں