-
الوداع اے دسمبر! تم بھی جاتے ہو تو جاؤ
-
جیسے جاتے ہیں سبھی اک ادھوری بات چھوڑ کر
-
ٹھنڈی چائے کی پیالی میں کچھ دھواں سا رہ گیا ہے
-
کھڑکیوں پر دھند ہے اور دھند پر انگلی سے لکھا
-
اک پرانا نام جو صبح ہونے تک مٹ جائے گا
-
تم کو جانا ہے، چلے جاؤ مگر اگلے برس
-
آؤ تو اتنا بتانا وہ بھی کیا اس شہر میں
-
اب بھی تمہیں یاد کرتا ہے؟

