شعر Read in Roman Urdu & English میں نے موت کی شام تک دستک دی جب کھولا دروازہ تو مایوسی نکلی ارسال کنندہ Kazi تصحیح بتائیں → پچھلادھند چھائی ہوئی ہے جھیلوں پر اگلا ←شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی مزید شامسب دیکھیں شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداسپورا شعر پڑھیںفراق گورکھپوری اجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دوپورا شعر پڑھیںبشیر بدر کبھی سحر تو کبھی شام لے گیا مجھ سےپورا شعر پڑھیںفرحت عباس شاہ