شعر Read in Roman Urdu & English غضب کی دھوپ تھی تنہائیوں كے جنگل میں شجر بہت تھے ، مگر کوئی سایہ دار نہ تھا ارسال کنندہ Dani Raja تصحیح بتائیں → پچھلادشتے تنہائی میں جسے چھوڑ آئے تم اگلا ←مجھے اپنانا ہے تو اپنا میری کمزوریوں كے ساتھ مزید تنہائی شاعریسب دیکھیں میں نے سمندر سے سیکھا ہے جینے کا سلیقہپورا شعر پڑھیں اب تو ان کی یاد بھی آتی نہیںپورا شعر پڑھیںفراق گورکھپوری احساس نہیں تھا کے تنہا ہوں آج کلپورا شعر پڑھیں