شعر Read in Roman Urdu & English یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو تصحیح بتائیں → پچھلاتم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں اگلا ←یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا قتیل شفائی کا مزید کلامتمام کلام کھلا ہے جھوٹ کا بازار آؤ سچ بولیںپوری غزل پڑھیں آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نامپورا شعر پڑھیں حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کاپورا شعر پڑھیں