قطعہ Read in Roman Urdu & English جینے کا حق سامراج نے چھین لیا اٹھو مرنے کا حق استعمال کرو ذلت کے جینے سے مرنا بہتر ہے مٹ جاؤ یا قصر ستم پامال کرو تصحیح بتائیں اگلا ←سامراج کے دوست ہمارے دشمن ہیں حبیب جالب کا مزید کلامتمام کلام دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیںپورا شعر پڑھیں اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےپوری غزل پڑھیں اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئیپورا شعر پڑھیں