شعر Read in Roman Urdu & English اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا تصحیح بتائیں → پچھلاظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یارو اگلا ←دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں حبیب جالب کا مزید کلامتمام کلام دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیںپورا شعر پڑھیں اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارےپوری غزل پڑھیں ظلم کے ہوتے امن کہاں ممکن یاروپورا شعر پڑھیں